Showing posts with label shaheed. Show all posts
Showing posts with label shaheed. Show all posts

Friday, 24 January 2014

امت کے دھارے کٹے ہو ے

ہے مسجد ان کی الگ الگ ،امت کے دھارے کٹے  ہو ے 
زبان پر ان کے کلام خدا ،کردار ان کی پھٹے ہو ے 

پھر خون بھا،اور لاش گرا ،بھا بھا ذرا اور بھا 
تم چپ کیوں سادھے بیٹھے ہو ، تیرے سر پڑے کٹے ہوے 

تیری آ نکھ میں یہ جو پانی ہے ،جھوٹا ہے صرف پانی ہے 
اہل حکم تو دیکھ ذرا ، میرے کفن پڑے ہیں پھٹے ہوے 

یہ رنج و غم کی بارش ہے ، یہ خون و آگ کی سازش ہے 
اے بےغیرت تجھے کیا خبر ، تیرے محل سستی سے اٹے ہوے 

ہے کافر یہ بھی کافر ہے  ،جو بولے وہ بھی کافر ہے 
ایمان کی حد تو دیکھ ذرا ، فرقوں فتووں میں بٹے ہوے 

 ہے جبر جو حد سے گزر گیا ، یوں صبر کا اب یہ جواز نہیں
اب ان کوچوں سے نکل ذرا ،میرے قافلے ہیں لٹے ہوے

اب باغی ہو کر نکل ذرا ، کہ ظلم ہے حد سے بڑھا ہوا 
اس پاک وطن کے ہر دھارے، ہیں خوں کے رنگ سے اٹے ہوے 

محمد سعد صديقي 


Wednesday, 30 November 2011

Monday, 28 November 2011

History of My Land


                                                 Lt. Yasir Abbas Shaheed




تاریخ مرے وطن کی کچھ ایسی منفرد ہے 
لہو سے لکھی تھی اب روز رقم ہوتی ہے 


History of my land is so unique
Was written in blood, and is now written daily